بندرگاہ

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - بندر، وہ ساحلی جگہ جہاں جہاز وغیرہ مال اور مسافر اتارنے چڑھانے کے لیے ٹھہرتے ہیں۔ "یہ خشکی کسی شہر کا بند گاہ ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ٤٨:٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'بندر' کے بعد فارسی لاحقۂ ظرف و گاہ' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٨٤ء کو "مکمل لیکچرز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بندر، وہ ساحلی جگہ جہاں جہاز وغیرہ مال اور مسافر اتارنے چڑھانے کے لیے ٹھہرتے ہیں۔ "یہ خشکی کسی شہر کا بند گاہ ہے۔"      ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ٤٨:٦ )

جنس: مذکر