بندوق

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - ایک نال یا دو نال کا آتشیں اسلحہ جس کی نال میں کارتوس رکھ کر یا بارود بھر کر چھوڑتے ہیں، آلہ مہلک۔  کہتا ہے یہ دل کہ خودکشی کی ٹھہرے خیر اس کو بھی مان لیں تو بندوق کہاں      ( کلیات، اکبر، ٤١٣:١ )

اشتقاق

فارسی زبان میں بطور اسم جامد مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے داخل ہوا۔ عربی میں بھی مستعمل ہے۔ رباعی مجرد کے باب سے مشتق ہے اصلی حروف (ب ن د ق) ہیں۔ ١٦٩٧ء کو "دیوان ہاشمی" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث