بنگالی

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - بنگلہ زبان۔ "بنگالی، مراٹھی اور گجراتی زبانوں کا کافی مواد مل گیا ہے۔      ( ١٩٤٢ء، آریائی زبانیں، ١٢ ) ٢ - [ موسیقی ]  بھیروں رام کی پانچویں راگنی (آئین اکبری (1593)، 137:2؛ مطلع العلوم (ترجمہ)، 346) "پنچم بنگالی سنپورن ہے، سرگم پدھن سرگیہ اس کا کھوج ہے اور گانے کا وقت آخر روز ہے۔"      ( ١٩٠٥ء، ترانۂ موسیقار، ٤٠ ) ٣ - بنگالی کا باشندہ؛ بابو کے ساتھ حقارۃً) معمولی کلرک۔  آو سنائیں ایک کہانی بابو بنگالی کی زبانی      ( ١٩٤٨ء، آئینہ حیرت، ١٢٦ ) ١ - بنگال سے منسوب (چیز، وضع وغیرہ)۔ "مختلف ترکیب اور واضح پٹے دار ساخت سے بنگالی پر تیلا مختص ہے۔"      ( ١٩٣١ء، خلاصۂ طبقات الارض ہند، ٧ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ اسم علم 'بنگال' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ نسبت ملنے سے 'بنگالی' بنا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٩٣ء کو مطلع انوار کے حوالے سے "آئین اکبری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بنگلہ زبان۔ "بنگالی، مراٹھی اور گجراتی زبانوں کا کافی مواد مل گیا ہے۔      ( ١٩٤٢ء، آریائی زبانیں، ١٢ ) ٢ - [ موسیقی ]  بھیروں رام کی پانچویں راگنی (آئین اکبری (1593)، 137:2؛ مطلع العلوم (ترجمہ)، 346) "پنچم بنگالی سنپورن ہے، سرگم پدھن سرگیہ اس کا کھوج ہے اور گانے کا وقت آخر روز ہے۔"      ( ١٩٠٥ء، ترانۂ موسیقار، ٤٠ ) ١ - بنگال سے منسوب (چیز، وضع وغیرہ)۔ "مختلف ترکیب اور واضح پٹے دار ساخت سے بنگالی پر تیلا مختص ہے۔"      ( ١٩٣١ء، خلاصۂ طبقات الارض ہند، ٧ )

اصل لفظ: بَنْگال