بنی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خوشحالی، فارغ البال۔ "ان کے ملنے والے جو جوانی اور بنی کے وقت میں آنکھیں بچھاتے تھے رنگ و روپ کھسلنے اور مصیبتوں کا سامنا ہونے پر ہر طرح طرح کے حیلے اور عذر تصنیف کرکے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔"      ( ١٩٣٤ء، عزمی، النجام عشق، ٨٤ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'بننا' سے صیغہ مونث ماضی مطلق ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٩٥ء کو "خزینۂ خیال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوشحالی، فارغ البال۔ "ان کے ملنے والے جو جوانی اور بنی کے وقت میں آنکھیں بچھاتے تھے رنگ و روپ کھسلنے اور مصیبتوں کا سامنا ہونے پر ہر طرح طرح کے حیلے اور عذر تصنیف کرکے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔"      ( ١٩٣٤ء، عزمی، النجام عشق، ٨٤ )

جنس: مؤنث