بوجھ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وزن، بار۔  یار سبو اٹھاے جس پہ ہو فضل مے فروش زاہد خشک پہ بھی کیا بوجھ ہے جانماز کا      ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانہ الہام، ٨ ) ٢ - گٹھڑی، بنڈل۔  وہ دیتے دکھ مگر اتنا تو دیکھ لینا تھا کہ ناتواں ہے یہ مزدور بوجھ بھاری ہے      ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانۂ الہام، ٣٨٠ ) ٣ - [ مجازا ]  ذمہ داری، فرض۔  بار سجدہ ادا کیا تہ تیغ کب سے یہ بوجھ میرے سر پر تھا      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ١٥٠ ) ٤ - انقباض، تکدر، رنج و ملال، فکر (عموماً دل وغیرہ کے ساتھ) 'آپ کے عنایت نامے سے تمام بوجھ میرے دل سے اٹھ گیا۔"      ( ١٨٩٩ء، حیات جاوید، ٤٨٠:٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'وود' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بوجھ' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء میں میر کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٤ - انقباض، تکدر، رنج و ملال، فکر (عموماً دل وغیرہ کے ساتھ) 'آپ کے عنایت نامے سے تمام بوجھ میرے دل سے اٹھ گیا۔"      ( ١٨٩٩ء، حیات جاوید، ٤٨٠:٢ )

اصل لفظ: وود
جنس: مذکر