بوجھنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - سمجھنا، پہچاننا، حقیقیت سمجھ کر مان لینا، جان لینا، تاڑ جانا (کسی بات کو)۔  راگنی کو بوجھنے لگتا تھا جب بجتی تھی تانت مٹھیوں کو بند کر کے پیسنے لگتا تھا دانت      ( ١٩٣٤ء، فکرو نشاط، ١١٢ ) ٢ - حل کرنا، مفہوم یا مطلب سمجھا (بیشتر پہلی کا)۔  سو سال میں بوجھی جو پہیلی کوئی تو بوجھ بھی خیر سے پہلی نکلی      ( ١٩٥٢ء، سموم و صبا، ٣٣٧ ) ٣ - [ گنجفہ ]  ورق ابتر کر کے پتا مانگنا۔ (نوراللغات، 691:1)

اشتقاق

غالباً سنسکرت زبان کے مصدر 'بوجھ ین' سے ماخوذ مصدر ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور 'فعل متعدی' استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٩١ء کو "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: بُدھ+یَن