بودا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ڈر پوک، بزدل، کم ہمت، پست حوصلہ۔ "بادشاہ بودا ہو تو کوی کیا کرے۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، شہید وفا، ٤١ ) ٢ - ناپائدار، پُھس پُھسا، آسانی سے ٹوٹ یا پھٹ جانے والا، کمزور۔ "کسی اور معاملے میں انسان کا ارادہ ایسا بودا ثابت نہیں ہوتا۔"      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ١٤٨:٢ ) ٣ - کمزور، نحیف، ناتواں، بے طاقت۔ "کیسے بودے یہ بت جو مکھی کے پیچھے پڑیں اور اس کو نہ پکڑ سکیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١١:٢ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ صفت ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧١٧ کو "کلیاتِ بحری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈر پوک، بزدل، کم ہمت، پست حوصلہ۔ "بادشاہ بودا ہو تو کوی کیا کرے۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، شہید وفا، ٤١ ) ٢ - ناپائدار، پُھس پُھسا، آسانی سے ٹوٹ یا پھٹ جانے والا، کمزور۔ "کسی اور معاملے میں انسان کا ارادہ ایسا بودا ثابت نہیں ہوتا۔"      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ١٤٨:٢ ) ٣ - کمزور، نحیف، ناتواں، بے طاقت۔ "کیسے بودے یہ بت جو مکھی کے پیچھے پڑیں اور اس کو نہ پکڑ سکیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١١:٢ )

جنس: مذکر