بوسہ
معنی
١ - منہ لگانے اور چومنے کا عمل، چوما، مچھی، پیار۔ "حضرت جعفر . جب حبشہ سے واپس آئے تو آپ نے ان کو گلے لگا لیا اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا" ( ١٩١١ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٩٨:٢ ) ٢ - [ تصوف ] وہ جذبہ باطن جو عاشق کے لئے سرمایۂ حیات ہو۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 64)
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - منہ لگانے اور چومنے کا عمل، چوما، مچھی، پیار۔ "حضرت جعفر . جب حبشہ سے واپس آئے تو آپ نے ان کو گلے لگا لیا اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا" ( ١٩١١ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٩٨:٢ )