بوسیدہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کہنہ، پرانا، گلا ہوا یا سڑا ہوا۔ "آج ہندوستان کی قومیت کا تخیل . ایک بوسیدہ تصویر ہے۔"      ( ١٩٢٢ء، نقش فرنگ، ١٨ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مصدر'بوسیدن' سے مشتق صیغہ ماضی مطلق 'بوسید' کے ساتھ فارسی قاعدہ کے مطابق لاحقۂ صفت 'ہ' لگنے سے صیغہ حالیہ تمام 'بوسیدہ' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے ١٨١٠ء میں "اخوان الصفا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کہنہ، پرانا، گلا ہوا یا سڑا ہوا۔ "آج ہندوستان کی قومیت کا تخیل . ایک بوسیدہ تصویر ہے۔"      ( ١٩٢٢ء، نقش فرنگ، ١٨ )

اصل لفظ: بوسیدن