بوند

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - قطرہ۔  ہے بادۂ کونیں کی بھی کوئی حقیقت دو بوند میں چھلکے وہ مرا جام نہیں ہے      ( ١٩٤٠ء، بیخود : کلیات بیخود موہانی، ٩٠ ) ٢ - تلوار، خنجر وغیرہ کی چمک یا دھار۔  شہید ناز نہ ہو کس طرح سے ہاں سیراب کہ آبدار ہے اس خنجر عتاب کی بوند      ( ١٨٤٥ء، کلیات ظفر، ٨٩:١ ) ٣ - ایک قسم کا ریشمین کپڑا جس پر چتیان ہوتی ہیں۔ "رنگ اس کا سیاہ بوند (چھینٹ) کی طرح ہوتا ہے۔"      ( ١٨٩٧ء، سیرپرند، ٢٠٦ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'وند' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بُونْد' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٦١ء میں 'میراں جی خدانما" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - ایک قسم کا ریشمین کپڑا جس پر چتیان ہوتی ہیں۔ "رنگ اس کا سیاہ بوند (چھینٹ) کی طرح ہوتا ہے۔"      ( ١٨٩٧ء، سیرپرند، ٢٠٦ )

اصل لفظ: وند