بوٹی

قسم کلام: اسم تصغیر

معنی

١ - گوشت کا چھوٹا ٹکڑا،۔ لوتھڑا۔ "اللہ میاں نے چیل کو بڑی تیز آنکھیں دی ہیں وہ بڑی دور سے گوشت کی بوٹی . دیکھ لیتی ہے۔"      ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، ٢٥ ) ٢ - پرندے کا وہ بچہ جس کے پر نہ نکلے ہوں۔ (نوراللغات، 688:1) ١ - نہایت سُرخ۔ (فرہنگ آصفیہ، 419:1)

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'بوٹ' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ تصغیر لگانے سے 'بوٹی' بنا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گوشت کا چھوٹا ٹکڑا،۔ لوتھڑا۔ "اللہ میاں نے چیل کو بڑی تیز آنکھیں دی ہیں وہ بڑی دور سے گوشت کی بوٹی . دیکھ لیتی ہے۔"      ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، ٢٥ )

جنس: مؤنث