بٹا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ ریاضی ]  اعداد کسری میں بمعنی حصہ مستعمل، جیسے : دو بٹا تین (2/3) یعنی تین حصوں میں سے دو حصے اس کی علامت ایک چھوٹی سی سیدھی لکیر ہے۔ "دوسری عالمی جنگ سے پہلے دنیا ایک بٹا چھ حصے میں سوشلسٹ طاقت کا ذکر سنا جاتا تھا۔"      ( ١٩٦٧ء، جس رزق سے، ٢٩٣ )

اشتقاق

سنسکرت کے لفظ 'ونٹ' سے ماخوذ اردو مصدر 'بٹنا' سے مشتق صیغۂ مارضی مطلق غائب ہے اور اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٧٩ء میں 'مضامین فرحت' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ ریاضی ]  اعداد کسری میں بمعنی حصہ مستعمل، جیسے : دو بٹا تین (2/3) یعنی تین حصوں میں سے دو حصے اس کی علامت ایک چھوٹی سی سیدھی لکیر ہے۔ "دوسری عالمی جنگ سے پہلے دنیا ایک بٹا چھ حصے میں سوشلسٹ طاقت کا ذکر سنا جاتا تھا۔"      ( ١٩٦٧ء، جس رزق سے، ٢٩٣ )

اصل لفظ: ونٹ
جنس: مذکر