بٹوارا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - جائیداد یا مال مشترک کی تقسیم، ساجھے کی چیز کی حصہ رسدی بانٹ۔ "اگر دونوں بھائیوں میں یہی مفایرت رہی تو ضرورت بٹوارا ہو جائے گا۔"      ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٢٩٥ ) ٢ - شرکاء کی علیحدگی۔ (پلیٹس) ٣ - تقسیم نامہ، وہ دستاویز جس میں تقسیم کی تفصیلات اور شرائط درج ہوں۔ (ماخوذ : فرہنگ آصفیہ، 366:1؛ نوراللغات، 567:1) ٤ - گاؤں میں ایک کاشتکار کے کھیت کو دوسرے کے کھیت سے الگ اور ممتاز کرنے کے لیے سرکاری طور پر حدبندی۔ "ہری سنگھ امین بٹوارہ نے - نقشہ جات کی کتابوں کے بہم پہنچانے میں بہت سی اور کوشش کی۔"      ( ١٨٩٨ء، سرسید، مقالات، ٣٥٥ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'ونٹ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بٹوارا' مستعمل ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٥ء میں 'فسانۂ مبتلا' میں مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - جائیداد یا مال مشترک کی تقسیم، ساجھے کی چیز کی حصہ رسدی بانٹ۔ "اگر دونوں بھائیوں میں یہی مفایرت رہی تو ضرورت بٹوارا ہو جائے گا۔"      ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٢٩٥ ) ٤ - گاؤں میں ایک کاشتکار کے کھیت کو دوسرے کے کھیت سے الگ اور ممتاز کرنے کے لیے سرکاری طور پر حدبندی۔ "ہری سنگھ امین بٹوارہ نے - نقشہ جات کی کتابوں کے بہم پہنچانے میں بہت سی اور کوشش کی۔"      ( ١٨٩٨ء، سرسید، مقالات، ٣٥٥ )

اصل لفظ: ونٹ
جنس: مذکر