بٹیر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - "گوریا سے بڑا اور تیتر سے چھوٹا ایک خاکی رنگ کا خالدار پرند جو لڑانے کے لیے پالتے اور اکثر ذبح کر کے کھاتے ہیں۔" "آج حضرت بادشاہ جہاں پناہ - نے بٹیروں کی لڑائی کا تماشا دیکھا۔"      ( ١٩٣٤ء، بہادر شاہ کا روزنامچہ، ١٧٦ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'ورتکا' ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں 'بٹیر' مستعمل ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٤٣٤ء میں 'زنان گویا' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - "گوریا سے بڑا اور تیتر سے چھوٹا ایک خاکی رنگ کا خالدار پرند جو لڑانے کے لیے پالتے اور اکثر ذبح کر کے کھاتے ہیں۔" "آج حضرت بادشاہ جہاں پناہ - نے بٹیروں کی لڑائی کا تماشا دیکھا۔"      ( ١٩٣٤ء، بہادر شاہ کا روزنامچہ، ١٧٦ )

اصل لفظ: ورتکا
جنس: مذکر