بپھرنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - غصے میں بھرنا، جھلّانا، غضبناک ہونا (اکثر شیر کے لیے مستعمل)۔ "مذہب کا خون آشام دیوتا بپھرا ہوا تھا۔"      ( ١٩٥١ء، حسن کی عیاریاں، ١٥٩ ) ٢ - اپنی بڑائی جتانے کے لیے آنکھیں نکال کر منھ پھلانا، جوش میں بھرنا، قابو سے باہر ہو جانا، مستانا۔ "لڑائی بھڑائی کچھ نہیں تنہا بیٹھا ہے لیکن آپ ہی آپ بپھرا پڑتا ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم، ١٥٨:١ ) ٣ - جنگ پر آمادہ ہو جانا، لڑنے جھگڑنے کے لیے تیار ہونا۔ "یہ کہیے کہ ساری محفل اس گنہگار پر بپھر پڑی۔"      ( ١٩٣٧ء، انشائے ماجد، ١٣٧:٢ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'وسپھارنین' سے ماخوذ اردو مستعمل 'بپھر' کے ساتھ اردن علامت مصدر 'نا' بطور لاحقہ لگنے سے 'بپھرنا بنا۔ اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ ١٧٨٢ء "دیوان عیش دہلوی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غصے میں بھرنا، جھلّانا، غضبناک ہونا (اکثر شیر کے لیے مستعمل)۔ "مذہب کا خون آشام دیوتا بپھرا ہوا تھا۔"      ( ١٩٥١ء، حسن کی عیاریاں، ١٥٩ ) ٢ - اپنی بڑائی جتانے کے لیے آنکھیں نکال کر منھ پھلانا، جوش میں بھرنا، قابو سے باہر ہو جانا، مستانا۔ "لڑائی بھڑائی کچھ نہیں تنہا بیٹھا ہے لیکن آپ ہی آپ بپھرا پڑتا ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم، ١٥٨:١ ) ٣ - جنگ پر آمادہ ہو جانا، لڑنے جھگڑنے کے لیے تیار ہونا۔ "یہ کہیے کہ ساری محفل اس گنہگار پر بپھر پڑی۔"      ( ١٩٣٧ء، انشائے ماجد، ١٣٧:٢ )

اصل لفظ: وسپتھارنین