بچا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - باقی، محفوظ، بچا ہوا۔  کہتے تھے آبرو مری آج اے خدا رہے بہہ جائے سب لہو پہ یہ بچا رہے      ( ١٨٧٥ء، مونس، مراثی، ١: ١٦٤ ) ١ - بچا کر، الگ رہ کر  اور ہندو جس قدر ہیں خوانخواہ سو بچا رشتے کو وہ کرتے ہیں بیاہ      ( ١٨١٤ء، حکایات رنگیں، ٢٨ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ مصدر بچنا' سے صیغہ ماضی 'بچا' اردو میں بطور صفت نیز متعلق فعل استعمال ہوتا ہے اور ١٨١٤ء کو "حکایات رنگین" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: بچنا