بچانا
قسم کلام: فعل متعدی
معنی
١ - محفوظ کرنا یا محفوظ رکھنا، باقی رکھنا، الگ رکھنا۔ "او دشمن جانی اب کون بچائے گا زندگانی" ( ١٩٣٥ء، آغا حشر، اسیر حرص، ٤٥ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر لازم 'بچنا' سے اردو قواعد کے مطابق تعدیہ بنایا گیا ہے یعنی علامت مصدر سے پہلے 'الف' کا اضافہ کیا گیا ہے ١٧٨٢ء میں "دیوان عیش دہلوی" میں مستعمل ملتا ہے
مثالیں
١ - محفوظ کرنا یا محفوظ رکھنا، باقی رکھنا، الگ رکھنا۔ "او دشمن جانی اب کون بچائے گا زندگانی" ( ١٩٣٥ء، آغا حشر، اسیر حرص، ٤٥ )
اصل لفظ: ورجنیم