بچت

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - باقی ماندہ، بچا ہوا، جو کچھ صرف کرکے رہ گیا ہو۔ "ہم کو جو کچھ اسکول میں ناشتہ کے لیے ملتا ہے یہ اس کی بچت تھی۔"      ( ١٩١٨ء، مراری دادا، ١٣ ) ١ - بچنے، باقی رہنے، ضائع نہ ہونے یا محفوظ رہنے کی صورت حال۔ "اپنی کمائی کی بچت کی یہی صورت ہے کہ سونے چاندی کی صورت میں اس کو رکھیں۔      ( ١٩٠٤ء، آئین قیصری، ١٣٩ ) ٢ - کفایت، کم خرچ ہونے کی صورت۔ "ریلوے بے واسطہ ایک گماشتہ بچت کا ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٤٠ ) ٣ - فائدہ نفع۔ "جس بنج میں چار پیسے کی بچت ہو وہ کرو۔"      ( ١٨٨٨ء، فرہنگ آصفیہ، ٣٧٠:١ ) ٤ - تحفظ، بچاو۔  گر زبردست سے بچت چاہو زبردستوں پہ تم کرو الطاف      ( ١٩٤٥ء، فلسفہ اخلاق، ٣٦ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'بچنا' کا حاصل مصدر ہے اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٨٥ء کو "تعلیم الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - باقی ماندہ، بچا ہوا، جو کچھ صرف کرکے رہ گیا ہو۔ "ہم کو جو کچھ اسکول میں ناشتہ کے لیے ملتا ہے یہ اس کی بچت تھی۔"      ( ١٩١٨ء، مراری دادا، ١٣ ) ١ - بچنے، باقی رہنے، ضائع نہ ہونے یا محفوظ رہنے کی صورت حال۔ "اپنی کمائی کی بچت کی یہی صورت ہے کہ سونے چاندی کی صورت میں اس کو رکھیں۔      ( ١٩٠٤ء، آئین قیصری، ١٣٩ ) ٢ - کفایت، کم خرچ ہونے کی صورت۔ "ریلوے بے واسطہ ایک گماشتہ بچت کا ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٤٠ ) ٣ - فائدہ نفع۔ "جس بنج میں چار پیسے کی بچت ہو وہ کرو۔"      ( ١٨٨٨ء، فرہنگ آصفیہ، ٣٧٠:١ )