بچھا
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - فرش کیا ہوا، زمین پر کھلایا پھیلا ہوا۔ شیر سے خالی نہیں رہتا نیستاں زینہار بوریا لے فقر بچھا چھوڑ جایا چاہیے ( ١٨٤٦ء، آتش، دیوان، ٢٤٥:٢ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اردو مصدر 'بچھنا' کا فعل ماضی 'بچھا' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٤٦ء کو "دیوان آتش" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: بِچھْنا
جنس: مذکر