بچھو
معنی
١ - چالاک، متفنی، خطرناک۔ (نوراللغات، 576:1) ١ - ایک رینگنے والا زہریلا کیڑا جس خمدار اور نکیلی دم پیٹھ کی طرف کو اٹھی اور مڑی ہوئی اور دم میں ایک سخت زہریلا ڈنک ہوتا ہے، جو ہر وقت چلتا رہتا ہے، کثردم، عقرب، بچھی۔ "اس میں وہ سارے حیوانات آگئے جو زمیں پر رینگنے والے ہوں جیسے سانپ، بچھو، کنکھجورا وغیرہ۔" ( ١٩٥٤ء، حیوانا قرآنی، ٢٨ ) ٢ - ایک پہاڑی بوٹی جس کے غدودی ہال سے زہریلا مادہ رستا ہے اور وہ جلد سے مس ہونے پر سخت خراش پیدا کرتا ہے (لاطینی) Urtica heterophylla ٣ - ایک قسم کی آتشبازی (چھچھوندر) جو بچھو کی شکل سے مشابہ ہوتی ہے۔ "بچھو، چھچھوندر بنانے کے لیے کاغذ کے خول جن کا ایک منہ کھلا اور دوسرا بند ہو، کسی پنسل وغیرہ پر بنالو۔" ( ١٩٣٤ء، صنعت و حرفت، ١٣٦ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے اسم 'ورشچک' سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ایک رینگنے والا زہریلا کیڑا جس خمدار اور نکیلی دم پیٹھ کی طرف کو اٹھی اور مڑی ہوئی اور دم میں ایک سخت زہریلا ڈنک ہوتا ہے، جو ہر وقت چلتا رہتا ہے، کثردم، عقرب، بچھی۔ "اس میں وہ سارے حیوانات آگئے جو زمیں پر رینگنے والے ہوں جیسے سانپ، بچھو، کنکھجورا وغیرہ۔" ( ١٩٥٤ء، حیوانا قرآنی، ٢٨ ) ٣ - ایک قسم کی آتشبازی (چھچھوندر) جو بچھو کی شکل سے مشابہ ہوتی ہے۔ "بچھو، چھچھوندر بنانے کے لیے کاغذ کے خول جن کا ایک منہ کھلا اور دوسرا بند ہو، کسی پنسل وغیرہ پر بنالو۔" ( ١٩٣٤ء، صنعت و حرفت، ١٣٦ )