بچھڑا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - نوجوان لا ابالی لڑکا۔ "گھر میں بچھڑا تھا مکتب میں بچھڑے کا بیل ہوا۔"      ( ١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ٢٦ ) ٢ - نادان، ناسمجھ۔ "آدمی کے بچھڑوں پر پہلے پہل والدین کی حکومت کا ہلکا جوا رکھا جاتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٢، ١٨٤ ) ١ - گائے کا نر بچہ، گو سالہ۔  اس کے دینے کے لیے حاص کر آتا ہے سمیر اس کا بچھڑا اسی پربت کا بناتا ہے سمیر      ( ١٩٤٥ء، کمار سمبھو، ١ ) ٢ - (پیار سے) انسان کا بچہ۔ (پلیٹس)۔

اشتقاق

سنسکرت زبان کے اصل تفظ 'وتس + ر + ر+ ک' سے ماخوذ 'بچھڑا' اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٤٥ء کو "احوال الانبیا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نوجوان لا ابالی لڑکا۔ "گھر میں بچھڑا تھا مکتب میں بچھڑے کا بیل ہوا۔"      ( ١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ٢٦ ) ٢ - نادان، ناسمجھ۔ "آدمی کے بچھڑوں پر پہلے پہل والدین کی حکومت کا ہلکا جوا رکھا جاتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٢، ١٨٤ )

اصل لفظ: وتس+ر+ک