بچھیا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گائے کا مادہ بچہ۔ "کم سن گائے یعنی بچھیا کا گوشت طبی حیثیت سے بھی بہت مفید سمجھا گیا ہے۔"      ( ١٩٥٤ء، حیوانات قرآنی، ٣٥ ) ٢ - ہندوؤں کی ایک رسم جو کسی کے مرنے کے تیرھویں یا سترھویں دن ادا کی جاتی ہے۔ (فرہنگ آصفیہ)۔ ٣ - بیٹی (پیار میں)۔ "آنگی ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئی "اچھا تو میں بھی ایک بچھیا ہوں"۔"      ( ١٩٧٧ء، کرشن چندر، طلسم خیال، ٨٣ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'وتس + اکا' سے ماخوذ 'بچھیا' اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩١ء کو "طلسلم ہوشربا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گائے کا مادہ بچہ۔ "کم سن گائے یعنی بچھیا کا گوشت طبی حیثیت سے بھی بہت مفید سمجھا گیا ہے۔"      ( ١٩٥٤ء، حیوانات قرآنی، ٣٥ ) ٣ - بیٹی (پیار میں)۔ "آنگی ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئی "اچھا تو میں بھی ایک بچھیا ہوں"۔"      ( ١٩٧٧ء، کرشن چندر، طلسم خیال، ٨٣ )

اصل لفظ: وتس+اکا
جنس: مؤنث