بڑبڑانا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - بوڑھوں کی طرح چپکے چپکے بولنا، منھ ہی منھ میں بڑبڑانا، منمنانا، زیر لب کسی کو برا کہنا۔  میں نے پتے کی کہہ کر لی ہے جو دل میں چٹکی غصّے میں بھر کے کیا کیا وہ بڑبڑا رہے ہیں      ( ١٩٠٥ء، یادگار چراغ، ١٦٠ ) ٢ - چپکے چپکے وظیفہ پڑھنا۔ "پیر جی جھوم جھوم کے ہونٹوں ہی ہونٹوں میں کچھ بڑ بڑا رہے ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، ارمان، ٨٣ )

اشتقاق

حکایت الصوت کے حوالے سے اسم صوت 'بڑ' کی تکرار سے 'بڑبڑ' کے ساتھ 'انا' بطور لاحقہ مصدر لگانے سے 'بڑبڑانا' بنا۔ اردو میں بطور فعل لازم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٩ء کو "کلیات جرات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - چپکے چپکے وظیفہ پڑھنا۔ "پیر جی جھوم جھوم کے ہونٹوں ہی ہونٹوں میں کچھ بڑ بڑا رہے ہیں۔"      ( ١٩٤٠ء، آغا شاعر، ارمان، ٨٣ )