بڑھاپا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ضعیفی، پیری، جوانی اور ادھیڑپن کے بعد کی عمر۔ "تمہاری عمر ماشاء اللہ پچیس سال ہو چکی ہے، یہی عمر شادی کی ہوتی ہے، اب نہ کرو گے تو کیا بڑھاپے میں ہو گی۔"      ( ١٩٣٩ء، شمع، اے آر خاتون، ٢٣ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ اسم 'بڑھا' کے ساتھ 'پا' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٥ء کو "دیوانِ قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ضعیفی، پیری، جوانی اور ادھیڑپن کے بعد کی عمر۔ "تمہاری عمر ماشاء اللہ پچیس سال ہو چکی ہے، یہی عمر شادی کی ہوتی ہے، اب نہ کرو گے تو کیا بڑھاپے میں ہو گی۔"      ( ١٩٣٩ء، شمع، اے آر خاتون، ٢٣ )

جنس: مذکر