بڑھوتری

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بڑھنے کی کیفیت یا عمل، اضافہ، نشوونما وغیرہ۔ "ترقی کی شرح ٥ ء ٧ فیصد تھی جو بھلی چنگی تھی لیکن اس بڑھوتری کے باوجود پیداواری استعداد کم ہی رہی۔"      ( ١٩٧٠ء، روزنامہ جنگ، کراچی، ٢٤ فروری، ٣ ) ٢ - [ معاشیات ]  وہ اضافہ جو پنڈی کی قیمت میں رسد کی کمی یا طلب کی کثرت کے باعث پیدا ہو۔ "جب بٹہ یا بڑھوتری مقامات ذر سے تجاوز کرے تو زر کی آمد و رفت خود بخود جاری ہو جائے گی۔"      ( ١٩١٧ء، علم المعشیت، ٦٣٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ مصدر 'بڑھنا' سے حاصل مصدر ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٥ء کو "مذاق العارفین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بڑھنے کی کیفیت یا عمل، اضافہ، نشوونما وغیرہ۔ "ترقی کی شرح ٥ ء ٧ فیصد تھی جو بھلی چنگی تھی لیکن اس بڑھوتری کے باوجود پیداواری استعداد کم ہی رہی۔"      ( ١٩٧٠ء، روزنامہ جنگ، کراچی، ٢٤ فروری، ٣ ) ٢ - [ معاشیات ]  وہ اضافہ جو پنڈی کی قیمت میں رسد کی کمی یا طلب کی کثرت کے باعث پیدا ہو۔ "جب بٹہ یا بڑھوتری مقامات ذر سے تجاوز کرے تو زر کی آمد و رفت خود بخود جاری ہو جائے گی۔"      ( ١٩١٧ء، علم المعشیت، ٦٣٠ )

جنس: مؤنث