بکا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - گریہ و زاری، رونے اور آنسو بہانے کا عمل۔  ترویج دین حق کے سوا کچھ نہ مدعا راتوں کو قوم کے لیے کرتا رہا بکا      ( ١٩٢٧ء، شاد، ظہور رحمت، ٤٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٣٢ء میں 'کربل کتھا' میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: بکی
جنس: مؤنث