بکاؤ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بکنے کے لیے، فروختنی۔ 'میں بکاؤ نہیں ہوں، شہنشاہ سے کہہ دیجیے کہ اس ہار سے کسی دوسری حسین چھوکری کا حسن خرید لیں۔"      ( ١٩٣٤ء، تین پیسے کی چھوکری، ١٠ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'بکنا' سے مشتق اسم صفت ہے۔ ١٨٠٢ء میں "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بکنے کے لیے، فروختنی۔ 'میں بکاؤ نہیں ہوں، شہنشاہ سے کہہ دیجیے کہ اس ہار سے کسی دوسری حسین چھوکری کا حسن خرید لیں۔"      ( ١٩٣٤ء، تین پیسے کی چھوکری، ١٠ )

اصل لفظ: وکرینین