بکارت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کنوارپن، دوشیزگی۔ 'اس کے منگیتر نے اپنی محبوبہ کو بچانے کی خاطر یہ کہا کہ اس کی بکارت زائل ہو چکی ہے۔"      ( ١٩٢٧ء، تاریخ یونان قدیم، ٢٥٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ ١٧٩٥ء میں 'قائم' کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کنوارپن، دوشیزگی۔ 'اس کے منگیتر نے اپنی محبوبہ کو بچانے کی خاطر یہ کہا کہ اس کی بکارت زائل ہو چکی ہے۔"      ( ١٩٢٧ء، تاریخ یونان قدیم، ٢٥٣ )

اصل لفظ: بکر
جنس: مؤنث