بکواس

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بے تکی باتیں، فضول گوئی۔ 'مجھ میں تو دم نہیں کہ اس بکواس کا جواب دوں۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٥٦:٧ ) ٢ - بیکار اور فضول کام۔ 'جس شخص سے سنانے کا لطف تھا جب وہ نہ رہا تو اب شعر کہنا نہیں بکواس ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، آب حیات، آزاد، ٣٩٧ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر بکنا سے مشتق حاصل مصدر ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥٤ء میں ذوق کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے تکی باتیں، فضول گوئی۔ 'مجھ میں تو دم نہیں کہ اس بکواس کا جواب دوں۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٥٦:٧ ) ٢ - بیکار اور فضول کام۔ 'جس شخص سے سنانے کا لطف تھا جب وہ نہ رہا تو اب شعر کہنا نہیں بکواس ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، آب حیات، آزاد، ٣٩٧ )

اصل لفظ: وکریٹین
جنس: مؤنث