بکھیرنا
قسم کلام: فعل متعدی
معنی
١ - فعل لازم بکھرنا کا تعدیہ ہے۔ باغبان جہان فانی ہے پھول پتے، بکھیرنے والا رجوع کریں: بِکَھرنا ( ١٩١١ء، نذر خدا، ١٧ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'بکھرنا' سے اردو قواعد کے مطابق متعدی بنایا گیا ہے۔ اردو میں ١٦٢٥ء میں "سیف الملوک و بدیع الجمال" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: وکرٹین