بکھیڑا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - شور و شر، دنگا، فتنہ، فساد، ہنگامہ، غل، شور۔ 'حیدرآباد میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی فتنہ بپا رہتا ہے اور ایک بکھیڑے سے نجات نہیں ملتی کہ دوسرا کھڑا ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٦١ء، عبدالحق، مقدمات، ٢٩:١ ) ٢ - قضیہ، لڑائی، جھگڑا، مارکٹائی۔ 'انگلستان اس بکھیڑے کی روح رواں اور ان لڑائیوں کا بیدرد ترغیب دینے والا - پیچھے سے حملے کراتا رہا۔"    ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٥:١ ) ٣ - تکرار، حجت، رد و قدح۔ 'وہاں ہزاروں مبصر اور دام لگانے والے ہوتے ہیں نہ قیمت کا جھگڑا نہ چکانے کا بکھیڑا۔"    ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ١١ ) ٤ - الجھاؤ، جنجال، کھٹراگ، جھمیلے کا معاملہ۔  خواہشیں جا کے جو کچھ اپنی بیان کیں بولے آپ آئے ہیں کہاں کا یہ بکھیڑا لے کر      ( ١٩٠٣ء، نظم نگاریں، ٥٧ ) ٥ - کام دھندا، کاروبار، دنیا کے مشاغل (جو غیر معمولی ہوں)۔ 'میرے پیچھے تو ایسے بکھیڑے لگ گئے ہیں کہ کسی کام کا ہی نہیں رہا۔"      ( ١٩٤٢ء، مکتوبات عبدالحق، ٢٤٢ ) ٦ - انتشار، تردد، اندیشہ۔ 'لاش اٹھا کر دریا میں ڈال دو قصہ مٹاؤ بکھیڑا ٹال دو۔"      ( ١٨٦٢ء، شبستان سرور، ٧٨:١ ) ٧ - مال اسباب، انگڑ کھنگڑ۔  نمک میں آملہ اور ہڑ بہیڑا منگا بازار سے یہ سب بکھیڑا      ( ١٧٩٥ء، فرسنامۂ رنگین، ٢٠ ) ٨ - دقت، دشواری، پیچ، تکلیف، مشکل، طول امل۔ 'حساب روز لکھ لیا کرو اس میں کچھ زیادہ بکھیڑا نہیں۔"      ( ١٨٧٥ء، مجالس النسا، ٧٩:١ ) ٩ - نا اتفاقی، اختلاف، تضاد۔  مذہب عشاق ہے بیگانۂ قید رسوم یاں نہیں حسرت بکھیڑا سبحہ و زنار کا      ( ١٩٥٠ء، کلیات حسرت، ٢٧٠ ) ١٠ - فن، چالاکی۔  بیکار تو اے دولت حسرت کو نہ دے لالچ ہے تیرے بکھیڑوں سے وہ خاک نشیں واقف      ( ١٩٥٠ء، کلیات حسرت، ٢٠ ) ١١ - تعلقات دنیاوی (جو موجب تکلیف ہوں)۔  ہر اک فرد بشر کو سو بکھیڑوں میں پھنسا پایا نشاں ہے ہندسے پر دہر کی کب صفر راحت کا      ( ١٨٧٣ء، دیوان فدا، ٥٩ ) ١٢ - روک، ہرچ، اٹکاو، سدراہ، مزاحمت، مانع یا موانع۔ 'ان میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جو ان بکھیڑوں کی وجہ سے اپنے حقوق کے محفوظ رہنے میں اس طرح لاپروائی کرتی ہو۔"      ( ١٨٩٠ء، بست سالہ عہد حکومت، ٤٨٢ ) ١٣ - وہ بلا یا مصیبت جو کسی طرح نہ ٹلے اور اس میں آئے دن کی پریشانی ہو۔  عشق بازی کا بکھیڑا مرے سر سارا پڑا دل نے تو چاہا اسے میں مفت میں مارا پڑا      ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، دیوان، ٥١ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'وکار' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بکھیڑا' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٥٤ء میں 'گنج شریف' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شور و شر، دنگا، فتنہ، فساد، ہنگامہ، غل، شور۔ 'حیدرآباد میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی فتنہ بپا رہتا ہے اور ایک بکھیڑے سے نجات نہیں ملتی کہ دوسرا کھڑا ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٦١ء، عبدالحق، مقدمات، ٢٩:١ ) ٢ - قضیہ، لڑائی، جھگڑا، مارکٹائی۔ 'انگلستان اس بکھیڑے کی روح رواں اور ان لڑائیوں کا بیدرد ترغیب دینے والا - پیچھے سے حملے کراتا رہا۔"    ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٥:١ ) ٣ - تکرار، حجت، رد و قدح۔ 'وہاں ہزاروں مبصر اور دام لگانے والے ہوتے ہیں نہ قیمت کا جھگڑا نہ چکانے کا بکھیڑا۔"    ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ١١ ) ٥ - کام دھندا، کاروبار، دنیا کے مشاغل (جو غیر معمولی ہوں)۔ 'میرے پیچھے تو ایسے بکھیڑے لگ گئے ہیں کہ کسی کام کا ہی نہیں رہا۔"      ( ١٩٤٢ء، مکتوبات عبدالحق، ٢٤٢ ) ٦ - انتشار، تردد، اندیشہ۔ 'لاش اٹھا کر دریا میں ڈال دو قصہ مٹاؤ بکھیڑا ٹال دو۔"      ( ١٨٦٢ء، شبستان سرور، ٧٨:١ ) ٨ - دقت، دشواری، پیچ، تکلیف، مشکل، طول امل۔ 'حساب روز لکھ لیا کرو اس میں کچھ زیادہ بکھیڑا نہیں۔"      ( ١٨٧٥ء، مجالس النسا، ٧٩:١ ) ١٢ - روک، ہرچ، اٹکاو، سدراہ، مزاحمت، مانع یا موانع۔ 'ان میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جو ان بکھیڑوں کی وجہ سے اپنے حقوق کے محفوظ رہنے میں اس طرح لاپروائی کرتی ہو۔"      ( ١٨٩٠ء، بست سالہ عہد حکومت، ٤٨٢ )

اصل لفظ: وکار
جنس: مذکر