بگاڑ
معنی
١ - بگڑنا کا اسم کیفیت ہے۔ 'معمولی مویشی جن حالات میں پرورش پاتے ہیں ان کی بنا پر نسل میں بگاڑ پیدا ہونا لازمی ہے۔" رجوع کریں: بِگَڑنا ( ١٩٤٠ء، معاشیات ہند (ترجمہ)، ٤٠٣:١ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'وکار' سے ماخوذ اردو میں 'بگاڑ' مستعمل ہے اور اردو مصدر 'بگڑنا' سے مشتق حاصل مصدر بھی ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٩٧ء میں 'ہاشمی' کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بگڑنا کا اسم کیفیت ہے۔ 'معمولی مویشی جن حالات میں پرورش پاتے ہیں ان کی بنا پر نسل میں بگاڑ پیدا ہونا لازمی ہے۔" رجوع کریں: بِگَڑنا ( ١٩٤٠ء، معاشیات ہند (ترجمہ)، ٤٠٣:١ )