بگڑا
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - بگڑ کا صیغہ حالیہ تمام، کسی کام میں خرابی پیدا ہونا، ترکیبات میں مستعمل۔ بگڑے کاموں کو تمہارے حق سنوارے گا یقیں جیسے تم بگڑے مریضوں کو سنوارے ڈاکٹر ( ١٩١٩ء، گلزار، بادشاہ، ١٤٥ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ مصدر 'بگڑنا' کا صیغہ ماضی مطلق ہے اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٨٧٣ء کو "مراثی" میں انیس کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر