بھانت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - طرز، روش، طریقہ۔ "راجا نے من میں یہی ٹھانا ہے کہ ہم سب کو اسی بھانت ان بنا ترسا کر مارے۔"      ( ١٨٢٥ء، سیر عشرت، ٧٢ ) ٢ - قسم، نوع، طرح۔ "روٹی یہاں کئی بھانت کی ہوتی ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، دنیا گول ہے، ٢٠٠ ) ٣ - مثل، مانند، طرح۔  یہ باو کیا پھری کہ تری لٹ پلٹ گئی ناگن کی بھانت ڈس کے مرا دل الٹ گئی      ( ١٧١٨ء، دیوان آبرو (ق)، ٦٦ ) ٤ - رنگ؛ نسلی، خاندان۔ "اس نمو کا اور شہزادے کا کوئی مقابلہ ہے، صورت میں، شکل میں، ذات میں، بھانت میں، عزت میں . یہ کس چیز میں ان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، ہمارا گاؤں، ٢٥٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ ' بھنت' ہے اور بطور اسم مستعمل ہے اردو میں اس سے ماخوذ 'بھانت' مستعمل ہے ١٦٥٧ء میں "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طرز، روش، طریقہ۔ "راجا نے من میں یہی ٹھانا ہے کہ ہم سب کو اسی بھانت ان بنا ترسا کر مارے۔"      ( ١٨٢٥ء، سیر عشرت، ٧٢ ) ٢ - قسم، نوع، طرح۔ "روٹی یہاں کئی بھانت کی ہوتی ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، دنیا گول ہے، ٢٠٠ ) ٤ - رنگ؛ نسلی، خاندان۔ "اس نمو کا اور شہزادے کا کوئی مقابلہ ہے، صورت میں، شکل میں، ذات میں، بھانت میں، عزت میں . یہ کس چیز میں ان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، ہمارا گاؤں، ٢٥٢ )

اصل لفظ: بِھنّت
جنس: مؤنث