بھاپ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ لطیف بخارات جو پانی کے جوش کھانے سے اوپر اٹھتے ہیں، اسٹیم۔ 'بھاپ کی استری - بہتر رہتی ہے کیونکہ بھاپ سے کپڑے میں نمی آ جاتی ہے اور ساتھ ہی چمک بھی پیدا ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٤٩٧ ) ٢ - منھ سے نکلنے والی گرم و تر سانس؛ جاڑوں میں انسانوں اور حیوانوں کے منھ سے نکلنے والا دھواں۔ 'وہ - بار بار اس کے پیچھے آ کر کھڑے ہو جاتے اور گرم گرم بھاپیں اس کی گردن پر چھوڑنے لگتے۔"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٢٤٢ ) ٣ - وہ گرم و تر ہوا جو تازہ پکے ہوئے کھانے سے یا تیز گرمی میں زمین سے اٹھتی ہے۔  نہ گرمی سوں راکھے ستل نس کی تھاپ کہ سب نس اوبلتی رہوے دن کی بھاپ      ( ١٦٥٧ء، گلشن عشق، ١١١ ) ٤ - جسم کی مرطوب گرمی؛ جسم سے نکلنے والی گرم نمی۔  گرمی میں ماں بچائے جنھیں تن کی بھاپ سے وہ پسلیاں شکستہ ہوں گھوڑوں کی ٹاپ سے      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٤٥٣:٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ'واشپ' ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو زبان میں اس سے ماخوذ 'بھاپ' مستعمل ہے جوکہ اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - وہ لطیف بخارات جو پانی کے جوش کھانے سے اوپر اٹھتے ہیں، اسٹیم۔ 'بھاپ کی استری - بہتر رہتی ہے کیونکہ بھاپ سے کپڑے میں نمی آ جاتی ہے اور ساتھ ہی چمک بھی پیدا ہو جاتی ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٤٩٧ ) ٢ - منھ سے نکلنے والی گرم و تر سانس؛ جاڑوں میں انسانوں اور حیوانوں کے منھ سے نکلنے والا دھواں۔ 'وہ - بار بار اس کے پیچھے آ کر کھڑے ہو جاتے اور گرم گرم بھاپیں اس کی گردن پر چھوڑنے لگتے۔"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٢٤٢ )

اصل لفظ: واشپ
جنس: مؤنث