بھنبھنانا
معنی
١ - (مکھیوں وغیرہ کا) بھن بھن کرنا، (مراداً) اُڑنا۔ "یہ بھنبھاتا ہوا ننھا سا پرندہ آپ کو بہت ستاتا ہے۔" ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، ٣٤ ) ٢ - بھن بھن کی آواز پیدا کرنا۔ "بے تار کے برقی تار بھنبھناتے ہیں۔" ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، ١٤ ) ٣ - ناک میں بولنا۔ "ارے اسے ہاتھ سے نہ جانے دینا بھیا، وہ اولیگ کی طرف دیکھے بنا بے جان آواز میں بھنبھایا۔" ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا، ٩٧:١ ) ٥ - کانوں کا سائیں سائیں کرنا۔ (جامع اللغات، 559:1) ٦ - بیزار ہونا، نفرت کرنا، گھن آنا۔ "معلوم ہوا کہ سوتیلی ماں اس کی کنگھی چوٹی سے بھنبھناتی تھی۔" ( ١٩٦٩ء، افسانہ کر دیا، ٨٢ )
اشتقاق
ہندی زبان سے ماخوذ اسم 'بھن' کی تکرار سے 'بھن بھن' بنا۔ 'بھن بھن' کے ساتھ 'انا' بطور لاحقۂ مصدر لگانے سے 'بھنبھنانا، بنا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور فعل لازم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٦٥ء کو "دیپک پتنگ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (مکھیوں وغیرہ کا) بھن بھن کرنا، (مراداً) اُڑنا۔ "یہ بھنبھاتا ہوا ننھا سا پرندہ آپ کو بہت ستاتا ہے۔" ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، ٣٤ ) ٢ - بھن بھن کی آواز پیدا کرنا۔ "بے تار کے برقی تار بھنبھناتے ہیں۔" ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، ١٤ ) ٣ - ناک میں بولنا۔ "ارے اسے ہاتھ سے نہ جانے دینا بھیا، وہ اولیگ کی طرف دیکھے بنا بے جان آواز میں بھنبھایا۔" ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا، ٩٧:١ ) ٦ - بیزار ہونا، نفرت کرنا، گھن آنا۔ "معلوم ہوا کہ سوتیلی ماں اس کی کنگھی چوٹی سے بھنبھناتی تھی۔" ( ١٩٦٩ء، افسانہ کر دیا، ٨٢ )