بھول

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - کسی بات کا ذہن سے اتر جانا، کسی بات کی چوک ہو جانا۔ "دیکھو تو کیا مجھ سے بھول ہوئ، بڑے گھر کی باری کا خیال نہ رہا"۔      ( ١٨٨٥ء، فسانہ مبتلا، ٢٤٣ ) ٢ - انجانی غلطی، خطا، چوک، قصور، لغزش، گناہ۔ "پرماتما ہی سب کا سہارا ہے، کسی دوسرے کا سہارا لینا بھول ہے"      ( ١٩٣٦ء، پریم چالیسی، پریم چند، ١٣٥:٢ ) ٣ - فخر، گھمنڈ۔  دفع تو ہی خیال عالم سے رسم طاعت کی بھول کرتا ہے      ( ١٩١١ء، نذرِ خدا، ٢٢٥ )

اشتقاق

ہندی زبان سے اردو میں آیا اور "آخر گشت" میں ١٧٦٩ء میں استعمال ہوا۔

مثالیں

١ - کسی بات کا ذہن سے اتر جانا، کسی بات کی چوک ہو جانا۔ "دیکھو تو کیا مجھ سے بھول ہوئ، بڑے گھر کی باری کا خیال نہ رہا"۔      ( ١٨٨٥ء، فسانہ مبتلا، ٢٤٣ ) ٢ - انجانی غلطی، خطا، چوک، قصور، لغزش، گناہ۔ "پرماتما ہی سب کا سہارا ہے، کسی دوسرے کا سہارا لینا بھول ہے"      ( ١٩٣٦ء، پریم چالیسی، پریم چند، ١٣٥:٢ )

جنس: مؤنث