بھونڈا
معنی
١ - بدنما، بد وضع۔ "اصلاح دے تو اچھی بچھی چیز کا ناس کر بھونڈا بنا دے" ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ١٣٠ ) ٢ - نازیبا، معیوب، ناپسندیدہ۔ "بادشاہ نے اس کا خاندانی نام بھونڈا سمجھ کر اس جدید نام سے موسوم کر دیا ہو گا" ( ١٩٥٦ء، بیگمات اودھ، ١٩٨ )
اشتقاق
سنسکرت کے لفظ 'بھے پرد' سے ماخوذ اردو مستعمل 'بھونڈ' کے ساتھ 'الف' بطور لاحقۂ صفت لگنے سے 'بھونڈا' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے ١٨٩٧ء میں "یادگارغالب" میں مستعمل ملتا ہوں۔
مثالیں
١ - بدنما، بد وضع۔ "اصلاح دے تو اچھی بچھی چیز کا ناس کر بھونڈا بنا دے" ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ١٣٠ ) ٢ - نازیبا، معیوب، ناپسندیدہ۔ "بادشاہ نے اس کا خاندانی نام بھونڈا سمجھ کر اس جدید نام سے موسوم کر دیا ہو گا" ( ١٩٥٦ء، بیگمات اودھ، ١٩٨ )