بھوک

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - کھانے کی خواہش، اشتہا، گرسنگی۔ "تونگری پر فقیری کو مقدم رکھے دوسرے بھوک کو سیری پر فائق رکھے"۔      ( ١٨٤٥ء، ترجمہ مطلع العلوم، ٢٩ ) ٢ - خواہش، طلب۔ "دل میں ایک بھوک ہے جو خدا کے سوا کسی سے بند نہیں ہوتی"۔      ( ١٨٦٦ء، تہذیب الایمان، ٨١ ) ٣ - [ تجارت ]  ضرورت، حاجت، چاہ۔(1888ء، فرہنگ آصفیہ، 454:1) ٤ - گنجائش، مائی۔ "چول کے گھر میں اس سے زیادہ بھوک نہیں ہے"۔      ( ١٨٨٨ء، فرہنگ آصفیہ، ٤٤٥:١ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ "دیوانِ ہاشمی" میں ١٦٩٧ء میں مستعمل ملتا ہے۔ سنسکرت میں "ببھکش" تلفظ رکھتا ہے۔

مثالیں

١ - کھانے کی خواہش، اشتہا، گرسنگی۔ "تونگری پر فقیری کو مقدم رکھے دوسرے بھوک کو سیری پر فائق رکھے"۔      ( ١٨٤٥ء، ترجمہ مطلع العلوم، ٢٩ ) ٢ - خواہش، طلب۔ "دل میں ایک بھوک ہے جو خدا کے سوا کسی سے بند نہیں ہوتی"۔      ( ١٨٦٦ء، تہذیب الایمان، ٨١ ) ٤ - گنجائش، مائی۔ "چول کے گھر میں اس سے زیادہ بھوک نہیں ہے"۔      ( ١٨٨٨ء، فرہنگ آصفیہ، ٤٤٥:١ )