بھڑکیلا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - متلون مزاج، لگاوٹی، چنچل، بے چین، شوخ، وحشی (گھوڑا وغیرہ)، سیلانی، چھبیلا۔ (پلیٹس) ٢ - الگ تھلگ، نظروں سے بچا ہوا، شرمیلا۔ "جب ہم کسی شخص کے متعلق یہ کہیں کہ وہ بھڑکیلا ہے تو ہم عملاً یہ کہہ رہے ہیں اسے توجہ کی قوی حاجت ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں، ١٥١ ) ٣ - بھڑکنے والا۔ "فطری عادات کے لحاظ سے چیل ایک ڈرپوک اور بھڑکیلا جانور ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، ہندوستان کے بڑے جانور، ٣١ ) ٤ - زرق برق، چمکدار، بھڑک دار۔ "شاہد کی بے نیاز طبیعت ان بھڑکیلی چیزوں سے ملوث نہ ہوئی۔"      ( ١٩٤٣ء، جنت نگاہ، ٢٣٠ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ صفت ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٠٤ء کو "ہندوستان کے بڑے جانور" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - الگ تھلگ، نظروں سے بچا ہوا، شرمیلا۔ "جب ہم کسی شخص کے متعلق یہ کہیں کہ وہ بھڑکیلا ہے تو ہم عملاً یہ کہہ رہے ہیں اسے توجہ کی قوی حاجت ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں، ١٥١ ) ٣ - بھڑکنے والا۔ "فطری عادات کے لحاظ سے چیل ایک ڈرپوک اور بھڑکیلا جانور ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، ہندوستان کے بڑے جانور، ٣١ ) ٤ - زرق برق، چمکدار، بھڑک دار۔ "شاہد کی بے نیاز طبیعت ان بھڑکیلی چیزوں سے ملوث نہ ہوئی۔"      ( ١٩٤٣ء، جنت نگاہ، ٢٣٠ )

جنس: مذکر