بھی

قسم کلام: حرف تخصیص

معنی

١ - اسما و کنایات کی تعمیم و تاکید کے لیے، کوئی، اتنا، وغیرہ "کلی کا ننھا سا منہ اور بھی نکل آیا"۔      ( ١٩٥٥ء، دونیم، ٣٣ ) ٢ - افعال کی تاکید کے لیے، ضرور، لازماً وغیرہ۔  راہ پہ خود آ جائے گا آخر ٹھوکریں کچھ دن کھانے دو دیوانہ ہے دل سے نہ الجھو، آؤ بھی ہو گا جانے دو      ( ١٩٢٦ء، دیوان صفی (مقدمہ)، ٣٦ ) ٣ - تک کی جگہ اور اس کے معنوں میں (بطور نفی)  ہم چھیڑتے ہیں رسم قدیمانہ سمجھ کر وہ بات بھی کرتے نہیں دیوانہ سمجھ کر      ( ١٩٣١ء، انتخاب، دیوان مائل : ١٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ لفظ 'ابی' سے ماخوذ ہے۔ ١٦٣٥ء کو 'سب رس' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اسما و کنایات کی تعمیم و تاکید کے لیے، کوئی، اتنا، وغیرہ "کلی کا ننھا سا منہ اور بھی نکل آیا"۔      ( ١٩٥٥ء، دونیم، ٣٣ )