بھیا
معنی
١ - بھائی (پیار کے لیے) نہ لی بھیا نے بھی سدھ بدھ ہماری جہاں سے چاہ اٹھتی جا رہی ہے ( ١٩٤١ء، صبح بہار، ٥١ ) ٢ - پیار سے بلانے کا کلمہ، چھوٹے بچے کو پیار سے کہتے ہیں۔ "ہائے پورن. میرا بھیا. اوئی اس کی آنتیں لوٹ جائیں گی. ہائے میرا بچہ" ( ١٩٤٣ء، ضدی، ٥٤ ) ٣ - کسی کے کم عمر لڑکے کے لیے بولتے ہیں۔ "ہماری بڑی سالی کے بھیا کی مونچھوں کا کونڈا ہے" ( ١٨٨٩ء، سیرکہسار، ٩٥:١ ) ٤ - خلوص و محبت کے ساتھ کسی کو خطاب کرنے کے لیے محل پر بولتے ہیں۔ "حضرت بابا فرید اپنے ایک دوست کو بھیا کہا کرتے تھے" ( ١٩٢٥ء، تاریخ زبان اردو، ٢٢ ) ٥ - کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے زائد بولتے ہیں۔ "کسی کی بیجا بات تو بھیا مجھ سے کبھی بھی برداشت نہ ہو گی، چاہے تم ہو چاہے بڑے بھائی" ( ١٩٤٠ء، مہذب اللغات، ٤١٧:٢ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اردو اسم 'بھائی' کی ایک محرفہ شکل ہے، اردو میں بطور اسم ہی مستعمل ہے۔ ١٧٠٠ء میں "من لگن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - پیار سے بلانے کا کلمہ، چھوٹے بچے کو پیار سے کہتے ہیں۔ "ہائے پورن. میرا بھیا. اوئی اس کی آنتیں لوٹ جائیں گی. ہائے میرا بچہ" ( ١٩٤٣ء، ضدی، ٥٤ ) ٣ - کسی کے کم عمر لڑکے کے لیے بولتے ہیں۔ "ہماری بڑی سالی کے بھیا کی مونچھوں کا کونڈا ہے" ( ١٨٨٩ء، سیرکہسار، ٩٥:١ ) ٤ - خلوص و محبت کے ساتھ کسی کو خطاب کرنے کے لیے محل پر بولتے ہیں۔ "حضرت بابا فرید اپنے ایک دوست کو بھیا کہا کرتے تھے" ( ١٩٢٥ء، تاریخ زبان اردو، ٢٢ ) ٥ - کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے زائد بولتے ہیں۔ "کسی کی بیجا بات تو بھیا مجھ سے کبھی بھی برداشت نہ ہو گی، چاہے تم ہو چاہے بڑے بھائی" ( ١٩٤٠ء، مہذب اللغات، ٤١٧:٢ )