بھیجا
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - مغز، کھوپڑی کے اندر کا گودا۔ "اسکے پائے مقوی اعضا (گو کسی قدر دیر ہضم) اور اس کا مغز (بھیجا) نیند لانے والا مانا گیا ہے۔" ( ١٩٥٤ء، حیوانھات قرآنی، ١٢٤ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے اسم 'بھیدس یا بھجس' سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مغز، کھوپڑی کے اندر کا گودا۔ "اسکے پائے مقوی اعضا (گو کسی قدر دیر ہضم) اور اس کا مغز (بھیجا) نیند لانے والا مانا گیا ہے۔" ( ١٩٥٤ء، حیوانھات قرآنی، ١٢٤ )
اصل لفظ: بھیرس،بھیجّس
جنس: مذکر