بھیدی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - راز دار، ہمراز۔  الفت کی نرالی رسمیں ہیں دل ایک نظر میں ان کا تھا شکوون کے عوض تھا شکر جانا، کس وقت میں بھیدی ٹوٹ گیا      ( ١٩٤١ء، نوبہاراں، ٣٨ ) ٢ - واقف کار، باخبر۔ "یہ ہوائی کسی بھیدی نے اڑائی ہوگی۔"      ( ١٩٥٢ء، جوش (سلطان حیدر) ہوائی، ٣ ) ٣ - مخبر، جاسوس، بھید لینے والا۔ "غالباً کسی بھیدی نے اطلاع دے دی کہ زیور اسی مکان میں چھوڑ گئی ہیں۔"      ( ١٩١٤ء، حالی، مکتوبات حالی، ٣٣٩:٢ ) ٤ - فرشتہ۔ (ہندی اردو لغت، 135) ٥ - چھید کرنے والا۔ (ہندی اردو لغت، 135)

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'بھید' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'بھیدی' بنا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - واقف کار، باخبر۔ "یہ ہوائی کسی بھیدی نے اڑائی ہوگی۔"      ( ١٩٥٢ء، جوش (سلطان حیدر) ہوائی، ٣ ) ٣ - مخبر، جاسوس، بھید لینے والا۔ "غالباً کسی بھیدی نے اطلاع دے دی کہ زیور اسی مکان میں چھوڑ گئی ہیں۔"      ( ١٩١٤ء، حالی، مکتوبات حالی، ٣٣٩:٢ )

اصل لفظ: بھید
جنس: مذکر