بھینچنا
قسم کلام: فعل متعدی
معنی
١ - سمیٹنا، بدن کو دبا نا، گلے لگانا، پچکا نا۔ "سلمہ جانی کو گود میں لے کر ذرا بھینچ لو اور دبوچ کر پیار کر لو۔" ( ١٩١٧ء، خطوط حسن نظامی، ٧:١ )
اشتقاق
ہندی زبان سے ماخوذ مصدر 'بھنچنا' کا تعدیہ ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور فعل متعدی استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٤٣ء کو "بھوگ مل" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سمیٹنا، بدن کو دبا نا، گلے لگانا، پچکا نا۔ "سلمہ جانی کو گود میں لے کر ذرا بھینچ لو اور دبوچ کر پیار کر لو۔" ( ١٩١٧ء، خطوط حسن نظامی، ٧:١ )
اصل لفظ: بِھنْچْنا