بھیڑ
معنی
١ - آدمیوں کا حماؤ، جمگھٹا، انبوہ، ٹھٹھ، مجمع۔ 'تمہارے ساتھ جو یہ بھیڑ ہے گرد کی طرح اڑ جائے گی۔" ( ١٩١١ء، سیرۃ النبی، ٤١٥:١ ) ٢ - (کسی چیز کی) کثرت، زیادتی، یورش۔ یوں حسرتوں کی بھیڑ ہے اس دل کے گھاو پر پروانے جمع ہوتے ہیں جیسے الاو پر ( ١٩٢٧ء، شاد عظیم آبادی، میخانۂ الہام، ١٥٧ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'اھیرٹ' ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں 'بھیڑ' مستعمل ہے اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء میں میر کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آدمیوں کا حماؤ، جمگھٹا، انبوہ، ٹھٹھ، مجمع۔ 'تمہارے ساتھ جو یہ بھیڑ ہے گرد کی طرح اڑ جائے گی۔" ( ١٩١١ء، سیرۃ النبی، ٤١٥:١ )