بھیک

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گداگری، مفلس کا گزر بسر کے لیے کسی سے کچھ طلب کرنا۔ "جو فقرا بھیک سے روٹی کماتے تھے، ان کو کہا کہ وہ حرام کا کماتے ہیں"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٥٣٠:٥ ) ٢ - [ مجازا ]  خیرات، بے معاوضہ نا دار کو طلب کرنے پر جو چیز دی جائے۔ "انہوں نے . دولت مندوں کی بھیک کو اپنا سہارا نہیں بنایا"

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'بھکشا' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بھیک' مستعمل ہے اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٧٩٨ء، میں سوز کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گداگری، مفلس کا گزر بسر کے لیے کسی سے کچھ طلب کرنا۔ "جو فقرا بھیک سے روٹی کماتے تھے، ان کو کہا کہ وہ حرام کا کماتے ہیں"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٥٣٠:٥ ) ٢ - [ مجازا ]  خیرات، بے معاوضہ نا دار کو طلب کرنے پر جو چیز دی جائے۔ "انہوں نے . دولت مندوں کی بھیک کو اپنا سہارا نہیں بنایا"

اصل لفظ: بھکشا
جنس: مؤنث