بھیگنا
معنی
١ - تر ہونا، گیلا ہونا، (پانی یا کسی اور رقیق چیز سے) نم ہونا۔ "ابتداً لوگ نہایت جلدی جلدی وضو کرلیتے تھے، کچھ حصہ بھیگتا تھا کچھ نہیں بھیگتا تھا" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٠٦:٢ ) ٢ - [ مجازا ] (رات کا) سرد ہو جانا، ابتدائی حصہ شب کا گز کر خنک ہوجانا۔ رات جس وقت بھیگ جاتی ہے میرے اشکوں میں مسکراتی ہے ( ١٩٣٣ء، فکرو نشاط، ٦٨ ) ٣ - (مسوں کا) نکلنا، ظاہر ہونا۔ بھیگی ہوئی مسیں جو تری دیکھ لے کبھی شبنم سے برگ گل تہ بار گراں رہے ( ١٨٦٧ء، رشک نوراللغات، ٧٥٢:١ )
اشتقاق
ہندی زبان سے ماخوذ لفظ 'بھیگ' کے ساتھ اردو لاحقۂ مصدر 'نا' لگنے سے 'بھیگنا' مصدر بنا ١٨١٦ء میں "دیوان ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تر ہونا، گیلا ہونا، (پانی یا کسی اور رقیق چیز سے) نم ہونا۔ "ابتداً لوگ نہایت جلدی جلدی وضو کرلیتے تھے، کچھ حصہ بھیگتا تھا کچھ نہیں بھیگتا تھا" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١٠٦:٢ )