بہا

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث )

معنی

١ - قیمت، مول، بھاو۔  شوق کیا دام مرے دل کے لگاتا کوئی یہ تو ٹوٹا تھا سزاوار بہا ہی کب تھا      ( ١٩٣٥ء، شوق قدوائی، دیوان، ٣٩ ) ٢ - قدر، منزلت، رتبہ۔ 'گوہر فیثاغورثی کا اس کی نظر خراب آباد میں خاک بہا تھا۔"      ( ١٨٩١ء، بوستان خیال، ٤٠٨:٨ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو میں مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - قدر، منزلت، رتبہ۔ 'گوہر فیثاغورثی کا اس کی نظر خراب آباد میں خاک بہا تھا۔"      ( ١٨٩١ء، بوستان خیال، ٤٠٨:٨ )