بہادری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - شجاعت، دلیری، جرات۔ 'ایسے سخنات نہ نکلیں کہ جس میں اپنی شیخی یا کارذانی سپاہ گری بہادری یا لوگوں کی ناکردہ کاری یا اپنی قدامت کا دعوٰی ہوئے۔"      ( ١٨٥٦ء، مجموعہ فوائد الصبیان، ٧ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم صفت'بہادر' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے 'بہادری' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٣٢ء میں 'کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شجاعت، دلیری، جرات۔ 'ایسے سخنات نہ نکلیں کہ جس میں اپنی شیخی یا کارذانی سپاہ گری بہادری یا لوگوں کی ناکردہ کاری یا اپنی قدامت کا دعوٰی ہوئے۔"      ( ١٨٥٦ء، مجموعہ فوائد الصبیان، ٧ )

اصل لفظ: بَہادُر
جنس: مؤنث